تو کیا تم سمجھتے ہو کہ تم نے کہانیاں لکھنی سیکھ لی ہیں ۔بہت خوب!۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تمھاری اکثر کہانیوں میں تمھاری اپنی ہی دہرائی ہوئی باتیں ہوتی ہیں ۔ تھوڑ ا سا مرچ مصالحہ ڈال لیا ۔ کچھ نئے معنی پر لفظوں کی نئی ترتیب کا رنگ روغن چڑ ھا لیا اور سمجھ لیا کہ تم نے کہانی لکھ لی۔
تم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ تم خود بھی ایک کہانی ہو۔ ایسی کہانی کہ اگر لکھی جائے ‘ بالفرض تم خود ہی لکھو تو تمھاری دوسری کہانیوں کی نسبت بہت مربوط اور دل چسپ ہو گی۔ تمھاری اپنی کہانی تمھارے لیے شرمندگی کا باعث ہی سہی لیکن دوسرے اسے پڑ ھ کر بہت محظوظ ہوں گے ۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ تم پہلے اپنی کہانی لکھو پھر دوسروں کے بارے میں موشگافیاں کرنا۔ ٹھیک ہی تو ہے ۔ تمھاری کہانیاں موشگافیاں نہیں تو اور کیا ہیں ۔اس عمر میں جب کہ میں تم سے عمر میں تقریباً دوگنا ہوں ‘ مجھے تمھاری یہ موشگافیاں ذرا اچھی نہیں لگتیں ۔ تمھیں اس کا بالکل احساس نہیں لیکن میں تمھیں بڑ ی گہرائی کے ساتھ پڑ ھتا ہوں ۔ اس لیے جانتا ہوں کہ پہلے تم نے کیا لکھا اور اب کیا لکھ رہے ہو۔ اب دیکھو نا!۔۔۔ تم نے پچھلے دنوں ستارہ والی کہانی لکھی اور خواہ مخواہ ستارہ کے کردار کو اس طرح پیش کر دیا جیسے وہ کوئی طوائف ہو۔ جب کہ تم یہ بھی جانتے تھے کہ ستارہ ماسٹر رحمت دین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بہت ہی معصوم اور پاک باز۔بالکل اپنی سادہ لوح ماں کی طرح۔ حالانکہ اس سے پہلے تم کئی دوسری کہانیوں میں ناموں اور مقامات کی معمولی تبدیلی کے ساتھ ستارہ ہی کے کردار کو پیش کر چکے ہو ۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ ان کہانیوں میں تمھارا اپنا کردار بھی ہے جو ایک دھندلا سا خاکہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ۔۔ اور ستارہ ۔۔۔ جو پہلے دو بیٹیوں کی ماں بنی‘ پھر ایک بیٹے کو جنم دے کر مر گئی تھی‘ طوائف کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔ہاں البتہ اس میں تمھارا اپنا کردار کسی حد تک نمایاں ہو جاتا ہے ۔ وہ بھی صرف مجھ پر ۔ کسی اور کو اس کا احساس نہیں ہو سکتا۔ کاش تم اپنی لکھی ہوئی کہانیاں خود بھی غور سے پڑ ھ لیتے ۔
مجھے یقین ہے کہ تم کہانی لکھتے وقت کسی لاشعور کی زد میں آ جاتے ہو۔۔ اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم اپنی کہانی پوری ترتیب کے ساتھ کبھی نہیں لکھو گے ۔ اس لیے کہ تم اپنے لاشعور سے ڈرتے بھی بہت ہو۔ خوابوں پر تمھارا یقین نہیں ہے ورنہ تم کب کے مر چکے ہوتے ۔ خواب تو دن بھر کی خوشیوں اور دُکھوں کا عکس ہوتے ہیں ‘ لیکن میرا خیال ہے کہ تمھارا دماغ بہت کمزور ہو گیا ہے ۔تم خواب دیکھتے ضرور ہو لیکن صبح اُٹھتے ہی تمھیں خواب بھول جاتے ہیں ‘یوں ۔۔۔ جیسے کوئی اپنے آپ کو بھول جائے ۔ اسی لیے تم اپنی کہانیوں میں موجود ہونے کے باوجود اپنے آپ کو کئی جگہ بھول گئے ہو۔ اسی لیے مزے میں ہو‘ ورنہ تم سارا دن اپنے اور خوابوں کے بوجھ تلے دبے رہتے ‘ یا اُن کی تعبیریں ڈھونڈتے پھرتے ۔ یہ بہت بری بات ہے کہ آدمی خواب دیکھے اور بھول جائے ۔ خوابوں کو بھولنے کا مطلب ہے ‘ آدمی اپنے اندر ہی اندرمرتا جا رہا ہے ‘ لیکن اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ مرتا جا رہا ہے ۔ اس لیے کہ اندر ہی اندر مرنے سے احساس بھی مرتا چلا جا تا ہے ۔
تم نے کبھی آسمان کی طرف دیکھا ہے ۔ ہاں ! دیکھا ہو گا۔سب ہی دیکھتے ہیں ۔ دن میں بھی‘ رات کو بھی۔ لیکن تم یہ نہیں جانتے کہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بھی تم یہ نہیں دیکھ سکے کہ زمین پر نازل ہونے والی تباہیوں کے منظر کتنے گھناؤنے ہیں ۔تم اگر دیکھ سکتے تو تمھیں آسمان میں زمین ایک سیاہ دھبے کی طرح دکھائی دیتی۔۔۔ آسمان میں بہت سی کہانیاں بکھری پڑ ی ہیں ۔ تمھاری اپنی کہانی بھی پورے حرفوں اور لفظوں کے ساتھ موجود ہے ۔ تم نے دیکھا نہیں ‘ اس لیے تمھارے احساس سے دور ہے ۔ تاہم مجھے معلوم ہے کہ اگر تم دیکھ بھی لیتے تو کترا جاتے ۔ تم اپنی کہانی جان کر بھی کیوں لکھو گے ۔ یہ نہیں کہ تمھیں اس کی فرصت نہیں ۔ تمھیں تو بس خوف ہے کہ اگر لوگوں نے مکمل ترتیب کے ساتھ تمھاری اپنی کہانی پڑ ھ لی تو پھر وہ تمھاری اور کوئی کہانی نہیں پڑھیں گے ۔۔۔پتہ نہیں ‘ تم جانتے ہو یا نہیں ‘ مجھے تمھاری بہت سی کہانیوں سے کتنا قریبی تعلق رہا ہے ۔ ایک ایسا تعلق جسے ابھی تم پوری طرح سمجھ نہیں سکتے ۔ لیکن مجھے تمھاری دوسری کہانیوں سے کوئی دل چسپی نہیں ۔ میں صرف ان کہانیوں کی بات کر رہا ہوں جن میں کسی نہ کسی طرح تم خود آ نکلے ہو۔ غیر مربوط ہی سہی‘ ایک کہانی بن گئے ہو۔
جانتے ہو تمھاری کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے ؟ تمھیں شاید یاد ہے کہ نہیں ؟ جب تم پیدا ہوئے تھے وہ برسات کی رات تھی۔ بادلوں کی گڑ گڑ اہٹ میں تم نے جب آنکھ کھولی تو تمھیں رات کے اندھیرے میں بجلی کی روشنی اور پھر اس کی کڑ ک نے بے ہوش کر دیا تھا۔ تمھاری دایا اماں نے سمجھا کہ تم پیدا ہوتے ہی مر چکے ہو۔ تمھاری ماں نے ہمت کر کے تمھیں دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی۔ تمھارے چہرے پر ٹھوڑ ی کے عین وسط میں ایک سیاہ دھبا تھا۔ رات کی تاریکی میں آسمان کے سائبان تلے وہ سیاہ دھبا بجلی کی چمک میں نظر آیا تو تمھاری ماں بے ہوش ہو گئی۔ دایا اماں ‘ جس جگہ تم پیدا ہوئے تھے ‘ نشیبی بستی سے اچانک آ نکلی تھی۔ تمھاری ماں کو تڑ پتا دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی۔ وقت بہت کم تھا اور پھر دایا اماں اتنی طاقت بھی نہیں رکھتی تھی کہ تمھاری ماں کو اپنے گھر تک لے جائے یا کسی کو مدد کے لیے پکار سکے ۔ تمھاری ماں بھی بے ہوش تھی اور تم بھی بے ہوش تھے ۔ لیکن دایا اماں تمھیں اپنی چادر میں لپیٹ کر نشیب میں اتر گئی۔ پھر وہاں سے دو آدمی آئے اور تمھاری ماں کو مردہ پا کر لوٹ گئے ۔ ساری رات تمھاری ماں کی لاش وہیں پڑ ی رہی۔ صبح انھی دو آدمیوں نے تمھاری ماں کو اسی جگہ دفن کر دیا۔
تمھاری ماں کا اتا پتا معلوم کرنے کے لیے دایا اماں کو زیادہ تردّد سے کام نہیں لینا پڑ ا۔ اسے پتہ تھا کہ انھی دو آدمیوں نے تمھاری ماں کو موت کے سپرد کیا تھا۔ ایک سال پہلے ہی انھوں نے اس کو مار دیا تھا۔ پھر وہ ایک زندہ لاش کی طرح یہاں آ گئی تھی‘ لیکن بادلوں کی گڑ گڑ اہٹ سے لرز کر وہ نشیب میں نہیں اُتر سکی تھی۔ بادلوں کی خوف ناک گڑگڑاہٹ کے باوجود تم نہ جانے کیسے زندہ رہ گئے ۔ دایا اماں کی لپٹی چادر میں تم نشیب میں ایسے اترے کہ پھر کبھی نہ ابھر سکے ‘ حالانکہ بعد میں تم نے زندگی کے اُفق پر ابھرنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے ۔ تمھیں جب معلوم ہوا کہ تمھاری پرورش کرنے والے تمھاری ماں کے قاتل ہیں ‘ تم ان کے سامنے تن کر کھڑ ے ہو گئے ۔ انھوں نے تمھاری ایسی پٹائی کی کہ تمھاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ ایک پاؤں بھی ٹوٹ گیا۔ پھر نہ جانے تم وہاں سے کیسے بھاگے ‘ ایک دُور دراز کی بستی میں جا کر پناہ لے لی۔ مائی سرداراں نے تمھاری کہانی سنی تو تمھارے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھ دیا۔ پھر تمھیں وہاں کی مسجد کے مولوی صاحب کے پاس پڑ ھنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ مولوی صاحب جو تمھیں پڑ ھاتے تھے ‘ دینی کتابوں کے ساتھ ہر قسم کی بڑ ی بڑ ی کتابیں پڑ ھنے کا شوق رکھتے تھے ۔ پھر تم نے بھی وہ ساری کتابیں پڑ ھ لیں اور یوں تمھیں احساس ہوا کہ تم اچھے خاصے پڑ ھے لکھے ہو گئے ہو۔ تم نے لکھنے کی مشق شروع کر دی اور کچھ اور لکھنے کے بجاے کہانیاں لکھنے لگے ۔ مولوی صاحب کو پتہ چلا تو انھوں نے تمھیں بہت سمجھایا۔ کہا کہ تم جھوٹے قصے لکھنے لگے ہو لیکن تم نہ مانے ۔ آخر انھوں نے مائی سرداراں کو کہہ دیا کہ یہ لڑ کا پڑ ھ لکھ نہیں سکتا۔ حالانکہ تم اپنی نظر میں اس وقت بھی بہت اچھی کہانیاں لکھنے لگے تھے ۔پھر تمھاری کہانیاں رسائل میں چھپنے لگیں ۔
تم سمجھتے ہو کہ تم نے پچھلی بار جو کہانی لکھی تھی‘ لوگ پڑ ھ کر بھول چکے ہوں گے ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ تمھارے نقاد جانتے ہیں کہ تمھارا قلم تمھارے لاشعور سے ‘ جس پر تمھیں یقین نہیں ‘ تمھاری اپنی ہی زندگی کی سیاہی کاغذ پر بکھیر دیتا ہے ۔سو اصل بات یہ ہے کہ تمھارے ہر کردار میں معنی کی تکرار ہوتی ہے ۔پھر ادب کے نقاد تو تمھاری کہانیوں کے رنگ رنگ سے واقف ہیں ‘ وہ ہر بار تمھاری کہانیوں میں در آنے والے سیاہ دھبے کو کیسے بھول سکتے ہیں ۔وہ سیاہ دھبا‘ جس سے تم نے کاغذ کا سینہ سیاہ کر دیا ہے ۔ وہ تمھیں کبھی معاف نہیں کر سکتے ۔
تم نے جو پہلی کہانی لکھی تھی‘ وہ مجھے اب بھی یاد ہے ۔ تم نے کہانی یوں شروع کی تھی۔۔۔ ’’کریموکی ماں پتہ نہیں پہاڑ ی گھاٹیوں کے درمیان کیوں مر گئی تھی۔ وہ نشیب میں اُتر کر بھی مر سکتی تھی۔ ‘‘۔۔۔ لیکن تم یہ نہیں لکھ سکے کہ بادلوں کی گڑ گڑ اہٹ میں وہ نشیب میں نہیں اتر سکی تھی۔ اگر وہ نشیب میں اُتر جاتی تو اس کی زندگی کا دردناک سفر ایک بار پھر شروع ہو جاتا۔ اچھا ہوا کہ وہ مر گئی۔ ۔۔پھر تم نے کریمو کی ماں کی سابقہ زندگی کا وہ روپ دکھا دیا جو تمھاری اپنی ماں کا تھا۔ لیکن تم کہانی کار ہو نا۔۔۔ بڑ ی خوب صورتی سے تم نے خود کو کہانی سے نکال لیا اور کہانی تمھارے بجاے کریمو کی ماں کی زندگی کا بے رحم عکس دکھاتی رہی۔ تم نے اس کہانی کو جو ایک سچی کہانی تھی‘ بدلنے کے لیے بہت رنگ بھرے ۔ پھر تم نے ایک اور کہانی لکھی۔ ۔۔ شگفتہ جو ایک بیٹے کو جنم دے کر بھی ماں نہ بن سکی۔ اس لیے کہ شگفتہ آخری بار بیٹی کو جنم نہ دے سکی تھی‘ حالانکہ بیٹوں کو جنم دینی والی مائیں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ۔۔۔اور زیادہ بیٹیاں پیدا کرنے والی مائیں مر جاتی ہیں ۔ ۔۔۔ اور تم نے لکھا۔۔۔ شگفتہ مر گئی۔۔۔کیوں کہ اس کی بیٹیاں صرف دو تھیں جنھیں وہ نشیبی بستی میں چھوڑ کر آ چکی تھی۔
تمھاری ستارہ والی کہانی تو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ستارہ جو ایک زمانے میں کتنی ہی آنکھوں کے لیے سرشاری کا استعارہ تھی۔ تم نے لکھا۔۔۔۔لیکن وہ پہلے ایسی نہ تھی۔ وہ ماسٹر رحمت دین کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔۔اُس کی لاڈلی بیٹی۔۔بیٹیاں تو ہوتی ہی لاڈلی ہیں ۔ وہ بھولے سے ایک دن گنجان جنگل میں نکل آئی اور اس کو بھیڑ یے لے گئے ۔بھیڑیوں نے اس کی تکا بوٹی کرنا چاہی لیکن تجارت پیشہ صداقت علی کے دوبیٹے وہاں اچانک آ نکلے اور انھوں نے بڑ ی بہادری سے اُسے بھیڑ یوں سے چھڑ ا لیا۔ پھر خود بھیڑ یے بن گئے ۔ بچی کھچی ستارہ کسی طرح واپس شہر پہنچ گئی۔ لیکن وہ اپنے گھر نہ جا سکی۔ شہر میں درندگی کے اس کوچے میں چلی گئی جہاں ستارہ جیسی کتنی ہی کرنیں اپنی سانسوں میں رات کی سیاہی انڈیلتی رہتی ہیں ۔ تمھاری کہانی کی ستارہ اس کوچے میں پہنچی تو واقعی ستارہ بن کر چمکی‘ اور پھر ستارہ پرستوں کی بھیڑ لگ گئی۔ تمھیں ستارہ کی اتنی چمک دمک منظور نہیں تھی۔ اس سے پہلے کہ ستارہ ماہتاب بن کر چمکتی تم نے ستارہ کو وہاں سے نکال دیا اور اس نے ساجد کے ہاں پناہ لے لی۔ساجد بہت نیک آدمی تھا لیکن وہ اس سے شادی نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ وہ خود شادی شدہ تھا۔ اس کی بیوی نے جب دیکھا کہ ستارہ ماہتاب بنتی جا رہی ہے تو اس نے ساجد کے گھر آنے سے پہلے اسے دھکے دے کر نکال دیا اور پھر وہ کتنے ہی دھکے کھاتی ہوئی پہاڑ وں کے نشیب میں ایک بستی کی طرف جا نکلی۔ وہاں بھی رہتے تو انسان ہی تھے لیکن انسانوں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور تھے ۔ تم نے اپنی کہانی میں اس زندگی کا ایسا نقشہ کھینچا جسے دیکھ کر آدمی کو زندگی سے نفرت ہونے لگتی ہے ۔ یہاں مجھے تم سے اختلاف ہے ۔ میں ہرگز تمھاری یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کوئی ایسی بستی بھی ہے جہاں کے لوگ اپنی بھوک مٹانے کے لیے اپنی بیٹیاں بھی بیچ دیتے ہیں ۔ بیٹیاں تو ہر سانس زندگی کا احساس دلاتی ہیں ۔تم نے تو زندگی ہی کو مار دیا۔ ستارہ کو بھی مار دیا۔ حالانکہ ستارہ کو نہیں مرنا چاہیے تھا۔ تم نے یہ عجیب بات لکھ دی کہ ستارہ اس بستی میں پہنچ کر خورشید بی بی کی بیٹی بن گئی اور پھر اس کے دونوں چاند سے بیٹوں سے بیاہ دی گئی تاکہ بیٹیاں پیدا کر سکے ۔ بھلا ایک بیٹی دو بیٹوں کے ساتھ بیاہی جائے ؟ ستاروں کے جھرمٹ میں ایک چاند تو ہو سکتا ہے لیکن ایک ستارہ کے لیے دو چاند۔ اندھیر خدا کا۔ بھلا ایسے بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو خورشید بی بی اس بستی میں لوٹ کر آنے والی ستارہ کے بیٹے کو اپنے گھر میں پناہ نہ دیتی۔ پھر بیٹا بھی ایسا‘ جس کی ٹھوڑ ی کے وسط میں ایک سیاہ دھبا تھا۔ ہاں البتہ یہ سیاہ دھبا دیکھ کر ستارہ کو مر ہی جانا چاہیے تھا۔
خیر یہ بھی اچھا ہوا کہ تم نے اپنی کہانی خود نہیں لکھی۔ اگر لکھتے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بالکل ادھوری لکھتے ۔۔۔ اور پھرتم سوچ رہے ہو گے کہ میں نے تمھاری لکھی ہوئی کہانیوں میں سے تمھاری اپنی کہانی کس طرح تلاش کی تو یہ سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ۔ ستارہ ماسٹر رحمت دین کے گھر سے مجھے ہی تلاش کرتے ہوئے جنگل میں بھٹک گئی تھی۔۔۔ اور یہی اس کی غلطی تھی۔ کیوں کہ ایک چھوٹا سا سیاہ دھبا اس کی قسمت کی سیاہی بن کر اس کی اپنی بھی ٹھوڑ ی کے وسط میں نقش تھا۔ اس کے باوجود وہ بہت حسین تھی‘ بہت معصوم تھی۔ اُسے میں نے بہت تلاش کیا۔ پھر میری شادی ہو گئی تو وہ مجھے ستارہ بن کر مل گئی لیکن میری بیوی نے میری غیرموجودگی میں اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا تھا۔
میں اب تک تمھاری سب کہانیاں پڑ ھ چکا ہوں ۔ تمھاری ہر کہانی نئی کہانی ہونے کے باوجود پرانی لگتی ہے اس لیے کہ تم کسی بھی کہانی میں اس سیاہ دھبے کو نہیں بھول سکے ‘ جسے تمھاری اپنی ٹھوڑ ی کے وسط میں دیکھ کر ستارہ مر گئی تھی۔۔۔اور اب تمھاری تازہ ترین کہانی میں یہ سیاہ دھبا اتنا پھیل گیا ہے کہ کہیں بھی روشنی کا احساس نہیں ہوتا۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔۔۔ تم نے آخر میں لکھا ہے کہ۔۔۔ انسان کے کرموں کی سیاہی نے پہاڑ وں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔ زمین کا سینہ شق ہو گیا ۔۔۔ پہاڑوں کی چٹانیں خوف ناک لرزش سے پاش پاش ہو گئیں اور ۔۔۔ وہ نشیبی بستی پوری کی پوری زمین میں غرق ہو گئی۔ لیکن پتہ نہیں تم جانتے ہو یا نہیں ‘ مجھے معلوم ہے کہ تمھاری کہانی والی ستارہ آج بھی زندہ ہے ۔۔۔ وہ ایک اور خورشید بی بی کی نوآباد نشیبی بستی میں اترچکی ہے ۔
اگر تمھیں پورا یقین ہے کہ نشیبی بستی کے مکین اب بھی اپنی بھوک مٹانے کے لیے اپنی بیٹیاں فروخت کر دیتے ہیں تو پھر مجھے تمھاری اس نئی کہانی کا انتظار ہے جس میں تم اس بستی کی فروخت کی جانے والی بیٹیوں کی خاموش سسکیوں کی آواز یں بھی مجھے سنا سکو۔ شاید اس طرح میں ستارہ کی بیٹیوں کی آوازیں بھی سن سکوں ۔ میں ان آوازوں کو بہت قریب سے سُننا چاہتا ہوں ۔ اتنا قریب سے کہ ستارہ کو یہ آوازیں سنائی نہ دیں ۔۔۔ کیوں کہ اگر ستارہ نے یہ آوازیں سُن لیں تو ماسٹر رحمت دین کی پرُسکون ابدی نیند میں خلل آ جائے گا اور پہاڑ وں کی چٹانیں ایک بار پھر خوف ناک لرزش سے پاش پاش ہو جائیں گی۔
خالد علیم ۔۔۔ ایک کہانی نئی پرانی
ایک کہانی نئی پرانی
